Thursday, 31 October 2024

احادیث مبارکہ

 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ، يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ ؟ قَالَ :    تُطْعِمُ الطَّعَامَ ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ    .




 ایک دن ایک آدمی نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہتر ہے ؟ فرمایا یہ کہ تم کھانا کھلاؤ ، اور جس کو پہچانو اس کو بھی اور جس کو نہ پہچانو اس کو بھی ، الغرض سب کو سلام کرو ۔


صحیح بخاری#12

کتاب ایمان کے بیان میں


Wednesday, 30 October 2024

صباح الخیر

 ﺑِﺴْـــــــــــــــــــــــﻢِ ﺍﻟﻠﮧِ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤٰﻦِ ﺍﻟﺮَّﺣِﯿْﻢِ

ﺍﻟﺴَّـــــــﻼَﻡُ ﻋَﻠَﻴــْــﻜُﻢ ﻭَﺭَﺣْﻤَﺔُ ﺍﻟﻠﻪِ ﻭَﺑَﺮَﻛـَـﺎﺗُﻪ

             ﺻﺒــــﺎ ﺡ ﺍﻟﺨــــــــــﯿﺮ


دل کا سکون پانے کے لیے کسی اور دل کو سکون دینا لازم ہے، جب آپ کسی کی خوشی اور مسکراہٹ کی وجہ بنتے ہیں، اللہ کریم کی خاص کرم نوازی آپ کے سکون کا باعث بن جاتی ہے

اے پاک پروردگار اپنے محبوب کریمﷺ کا صدقہ ہمیں قناعت، عاجزی، انکساری، درگزر اور‎ ‎توبہ کرنے والوں میں شامل فرما، یا رب العزت ہم سے ایسے راضی ہو جا کہ دوبارہ ناراضگی کا شک تک باقی نہ رہے


اَللّٰهُمَّ ارْفَعْ عَنَّا الْبَلَآءَ وَادْفَعِ الْوَبَآءَ عَنْ اُمَّةِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاَنْزِلْ رَحْمَتَكَ وَلُطْفَكَ عَلَى الْعِبَادِ وَاحْفَظْ بِلَادَنَا وَبِلَادَ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ كُلِّ شَرٍّ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْرٌ

آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ بِجَاہِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ عَلَیْہِ أَفْضَلُ الصَّلَاۃِ وَالسَّلَامِ وَالتَّحِیَّۃِ وَالثَّنَاءِ وَالتَّسْلِیْمِ وَعَلٰی آلِہٖ وَاَزْوَاجِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیرا


احادیث مبارکہ

 ‏رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں  (”اٰمن الرسول” سے آخر تک)  ایسی ہیں کہ جو شخص رات میں انہیں پڑھ لے وہ اس کے لیے کافی ہو جاتی ہیں۔


(صحیح بخاری،۴۰۰۸)



Tuesday, 29 October 2024

احادیث مبارکہ

 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ :    مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ    .




 لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کون سا اسلام افضل ہے ؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا وہ جس کے ماننے والے مسلمانوں کی زبان اور ہاتھ سے سارے مسلمان سلامتی میں رہیں ۔


صحیح بخاری#11

کتاب ایمان کے بیان میں

Monday, 28 October 2024

القرآن الکریم

 ‏💖السّلَامُ عَلیکمُ وَرَحــَـــــمةُاللّهِ وَبَرَكَآتُهُ 

مکہ مکرمہ 


رَبِّ ارْحَمْهُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا💚

اے میرے رب! ان دونوں پر رحم کر 

جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔💚

(الاسراء:24)

آمیــــن ثم آمیــــن یَارَبَّ العَالَمِین💚

Sunday, 27 October 2024

 ﺑِﺴْـــــــــــــــــــــــﻢِ ﺍﻟﻠﮧِ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤٰﻦِ ﺍﻟﺮَّﺣِﯿْﻢِ

ﺍﻟﺴَّـــــــﻼَﻡُ ﻋَﻠَﻴــْــﻜُﻢ ﻭَﺭَﺣْﻤَﺔُ ﺍﻟﻠﻪِ ﻭَﺑَﺮَﻛـَـﺎﺗُﻪ

              ﺻﺒــــﺎ ﺡ ﺍﻟﺨــــــــــﯿﺮ



آج کے دور میں زندگی کو تہ وبالا کرنے اور اخلاق واقدار کے فساد میں دوست احباب کا کلیدی کردار ہے، ہمارے اکثر احباب مغربی تہذیب کے دل دادہ ہوتے ہیں جن کے اندر مغربی کلچر سرایت کیے ہوتا ہے، جو انہیں دین سے دور اور دنیا کی محبت میں مست کر دیتے ہیں، اس لیے عہد کریں کہ آج سے برے دوستوں کی صحبت ترک کر کے اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کریں گے

یاد رکھیں! اچھوں کی صحبت اچھا اور بروں کی صحبت برا بناتی ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن وحدیث میں صالحین کے ساتھ رہنے کی تاکید کی گئی ہے

اللہ پاک ہمیں صحبت صالحین نصیب فرما


آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ بِجَاہِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ عَلَیْہِ أَفْضَلُ الصَّلَاۃِ وَالسَّلَامِ وَالتَّحِیَّۃِ وَالثَّنَاءِ وَالتَّسْلِیْمِ وَعَلٰی آلِہٖ وَاَزْوَاجِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا

سوتے وقت کی دعائیں

 سوتے وقت کی دعائیں

اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْاَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰی وَمُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْفُرْقَانِ، اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ شَیْءٍ اَنْتَ اٰخِذٌم بِنَاصِیَتِہٖ، اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الْاَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْءٌ وَّاَنْتَ الْاٰخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْءٌ وَّاَنْتَ الظَّاھِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْءٌ وَّاَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُوْنَکَ شَیْءٌ، اِقْضِ عَنَّا الدَّیْنَ وَاَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ

اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے رب! اور زمین کے رب! اور عرشِ عظیم کے رب! اے ہمارے اور ہر چیز کے رب! اے دانے اور گٹھلیوں کو پھاڑنے والے! اور اے تورات و انجیل اور فرقان (قرآن) کو نازل کرنے والے! میں تجھ سے ہر اس چیز کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی کو تو پکڑے ہوئے ہے۔ اے اللہ! تو ہی اوّل ہے، پس تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں اور تو ہی آخر ہے، پس تیرے بعد کوئی چیز نہیں اور تو ہی غالب ہے، پس تیرے اوپر کوئی چیز نہیں اور تو ہی باطن ہے، پس تجھ سے پوشیدہ کوئی چیز نہیں ہے، ہم سے (ہمارا) قرض ادا کردے اور ہمیں فقر سے نکال کر غنی بنادے۔’’‘‘


صحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب الدعاء عندالنوم، حدیث: 6889

Al Quran

 

‏💞﷽💞


🌷السلام علیکم 🌷


رَبَّنَا اغْفِرْ لِىْ وَلـِوَالِدَىَّ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ ۝


اے ہمارے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہوگا، 🌸


💫(ابراہیم آية ۴۱)💫

Tuesday, 22 October 2024

نصیحت

 ‏زندگی بہت مختصر ہے لگتی بہت لمبی ہے لیکن ذرا پیچھے مڑ کر جائزہ لیجیۓ کیلنڈروں کی بدلتی تاریخیں دیکھیۓ اپنی ڈھلتی عمر کا جائزہ لیجیۓ وقت کو آپ نہ گزاریں وہ مٹھی میں بند ریت کے ذروں کی طرح پھسلتا جا رہا ہے

ایسے میں فکر کیجیۓ اپنی ذات کی اپنے اعمال کی کیا جمع کر رہے ہیں آخرت کے لیے کیا ہے میرے پاس جو رب العالمین کا سامنا کروں

صرف اور صرف اپنا جائزہ لیجیۓ !

Monday, 14 October 2024

احادیث مبارکہ

  ہرقل ( شاہ روم ) نے ان کے پاس قریش کے قافلے میں ایک آدمی بلانے کو بھیجا اور اس وقت یہ لوگ تجارت کے لیے ملک شام گئے ہوئے تھے اور یہ وہ زمانہ تھا جب رسول اللہ ﷺ نے قریش اور ابوسفیان سے ایک وقتی عہد کیا ہوا تھا ۔ جب ابوسفیان اور دوسرے لوگ ہرقل کے پاس ایلیاء پہنچے جہاں ہرقل نے دربار طلب کیا تھا ۔ اس کے گرد روم کے بڑے بڑے لوگ ( علماء وزراء امراء ) بیٹھے ہوئے تھے ۔ ہرقل نے ان کو اور اپنے ترجمان کو بلوایا ۔ پھر ان سے پوچھا کہ تم میں سے کون شخص مدعی رسالت کا زیادہ قریبی عزیز ہے ؟ ابوسفیان کہتے ہیں کہ میں بول اٹھا کہ میں اس کا سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہوں ۔ ( یہ سن کر ) ہرقل نے حکم دیا کہ اس کو ( ابوسفیان کو ) میرے قریب لا کر بٹھاؤ اور اس کے ساتھیوں کو اس کی پیٹھ کے پیچھے بٹھا دو ۔ پھر اپنے ترجمان سے کہا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں ابوسفیان سے اس شخص کے ( یعنی محمد ﷺ کے ) حالات پوچھتا ہوں ۔ اگر یہ مجھ سے کسی بات میں جھوٹ بول دے تو تم اس کا جھوٹ ظاہر کر دینا ، ( ابوسفیان کا قول ہے کہ ) خدا کی قسم ! اگر مجھے یہ غیرت نہ آتی کہ یہ لوگ مجھ کو جھٹلائیں گے تو میں آپ ﷺ کی نسبت ضرور غلط گوئی سے کام لیتا ۔ خیر پہلی بات جو ہرقل نے مجھ سے پوچھی وہ یہ کہ اس شخص کا خاندان تم لوگوں میں کیسا ہے ؟ میں نے کہا وہ تو بڑے اونچے عالی نسب والے ہیں ۔ کہنے لگا اس سے پہلے بھی کسی نے تم لوگوں میں ایسی بات کہی تھی ؟ میں نے کہا نہیں کہنے لگا ، اچھا اس کے بڑوں میں کوئی بادشاہ ہوا ہے ؟ میں نے کہا نہیں ۔ پھر اس نے کہا ، بڑے لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ہے یا کمزوروں نے ؟ میں نے کہا نہیں کمزوروں نے ۔ پھر کہنے لگا ، اس کے تابعدار روز بڑھتے جاتے ہیں یا کوئی ساتھی پھر بھی جاتا ہے ؟ میں نے کہا نہیں ۔ کہنے لگا ، کیا اپنے اس دعوائے ( نبوت ) سے پہلے کبھی ( کسی بھی موقع پر ) اس نے جھوٹ بولا ہے ؟ میں نے کہا نہیں ۔ اور اب ہماری اس سے ( صلح کی ) ایک مقررہ مدت ٹھہری ہوئی ہے ۔ معلوم نہیں وہ اس میں کیا کرنے والا ہے ۔ ( ابوسفیان کہتے ہیں ) میں اس بات کے سوا اور کوئی ( جھوٹ ) اس گفتگو میں شامل نہ کر سکا ۔ ہرقل نے کہا ۔ کیا تمہاری اس سے کبھی لڑائی بھی ہوتی ہے ؟ ہم نے کہا ہاں ۔ بولا پھر تمہاری اور اس کی جنگ کا کیا حال ہوتا ہے ؟ میں نے کہا ، لڑائی ڈول کی طرح ہے ، کبھی وہ ہم سے ( میدان جنگ ) جیت لیتے ہیں اور کبھی ہم ان سے جیت لیتے ہیں ۔ ہرقل نے پوچھا ، وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتا ہے ؟ میں نے کہا ، وہ کہتا ہے کہ صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرو ، اس کا کسی کو شریک نہ بناؤ اور اپنے باپ دادا کی ( شرک کی ) باتیں چھوڑ دو اور ہمیں نماز پڑھنے ، سچ بولنے ، پرہیزگاری اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے ۔ ( یہ سب سن کر ) پھر ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا کہ ابوسفیان سے کہہ دے کہ میں نے تم سے اس کا نسب پوچھا تو تم نے کہا کہ وہ ہم میں عالی نسب ہے اور پیغمبر اپنی قوم میں عالی نسب ہی بھیجے جایا کرتے ہیں ۔ میں نے تم سے پوچھا کہ ( دعویٰ نبوت کی ) یہ بات تمہارے اندر اس سے پہلے کسی اور نے بھی کہی تھی ، تو تم نے جواب دیا کہ نہیں ، تب میں نے ( اپنے دل میں ) کہا کہ اگر یہ بات اس سے پہلے کسی نے کہی ہوتی تو میں سمجھتا کہ اس شخص نے بھی اسی بات کی تقلید کی ہے جو پہلے کہی جا چکی ہے ۔ میں نے تم سے پوچھا کہ اس کے بڑوں میں کوئی بادشاہ بھی گزرا ہے ، تم نے کہا کہ نہیں ۔ تو میں نے ( دل میں ) کہا کہ ان کے بزرگوں میں سے کوئی بادشاہ ہوا ہو گا تو کہہ دوں گا کہ وہ شخص ( اس بہانہ ) اپنے آباء و اجداد کی بادشاہت اور ان کا ملک ( دوبارہ ) حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ اس بات کے کہنے ( یعنی پیغمبری کا دعویٰ کرنے ) سے پہلے تم نے کبھی اس کو دروغ گوئی کا الزام لگایا ہے ؟ تم نے کہا کہ نہیں ۔ تو میں نے سمجھ لیا کہ جو شخص آدمیوں کے ساتھ دروغ گوئی سے بچے وہ اللہ کے بارے میں کیسے جھوٹی بات کہہ سکتا ہے ۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ بڑے لوگ اس کے پیرو ہوتے ہیں یا کمزور آدمی ۔ تم نے کہا کمزوروں نے اس کی اتباع کی ہے ، تو ( دراصل ) یہی لوگ پیغمبروں کے متبعین ہوتے ہیں ۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ اس کے ساتھی بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں ۔ تم نے کہا کہ وہ بڑھ رہے ہیں اور ایمان کی کیفیت یہی ہوتی ہے ۔ حتیٰ کہ وہ کامل ہو جاتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا کوئی شخص اس کے دین سے ناخوش ہو کر مرتد بھی ہو جاتا ہے تم نے کہا نہیں ، تو ایمان کی خاصیت بھی یہی ہے جن کے دلوں میں اس کی مسرت رچ بس جائے وہ اس سے لوٹا نہیں کرتے ۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا وہ کبھی عہد شکنی کرتے ہیں ۔ تم نے کہا نہیں ، پیغمبروں کا یہی حال ہوتا ہے ، وہ عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتے ۔ اور میں نے تم سے کہا کہ وہ تم سے کس چیز کے لیے کہتے ہیں ۔ تم نے کہا کہ وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ اللہ کی عبادت کرو ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور تمہیں بتوں کی پرستش سے روکتے ہیں ۔ سچ بولنے اور پرہیزگاری کا حکم دیتے ہیں ۔ لہٰذا اگر یہ باتیں جو تم کہہ رہے ہو سچ ہیں تو عنقریب وہ اس جگہ کا مالک ہو جائے گا کہ جہاں میرے یہ دونوں پاؤں ہیں ۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ ( پیغمبر ) آنے والا ہے ۔ مگر مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ تمہارے اندر ہو گا ۔ اگر میں جانتا کہ اس تک پہنچ سکوں گا تو اس سے ملنے کے لیے ہر تکلیف گوارا کرتا ۔ اگر میں اس کے پاس ہوتا تو اس کے پاؤں دھوتا ۔ ہرقل نے رسول اللہ ﷺ کا وہ خط منگایا جو آپ نے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے ذریعہ حاکم بصریٰ کے پاس بھیجا تھا اور اس نے وہ ہرقل کے پاس بھیج دیا تھا ۔ پھر اس کو پڑھا تو اس میں ( لکھا تھا ) : اللہ کے نام کے ساتھ جو نہایت مہربان اور رحم والا ہے ۔ اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر محمد ﷺ کی طرف سے یہ خط ہے شاہ روم کے لیے ۔ اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرے اس کے بعد میں آپ کے سامنے دعوت اسلام پیش کرتا ہوں ۔ اگر آپ اسلام لے آئیں گے تو ( دین و دنیا میں ) سلامتی نصیب ہو گی ۔ اللہ آپ کو دوہرا ثواب دے گا اور اگر آپ ( میری دعوت سے ) روگردانی کریں گے تو آپ کی رعایا کا گناہ بھی آپ ہی پر ہو گا ۔ اور اے اہل کتاب ! ایک ایسی بات پر آ جاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے ۔ وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے سوا اپنا رب بنائے ۔ پھر اگر وہ اہل کتاب ( اس بات سے ) منہ پھیر لیں تو ( مسلمانو ! ) تم ان سے کہہ دو کہ ( تم مانو یا نہ مانو ) ہم تو ایک خدا کے اطاعت گزار ہیں ۔ ابوسفیان کہتے ہیں : جب ہرقل نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا اور خط پڑھ کر فارغ ہوا تو اس کے اردگرد بہت شور و غوغا ہوا ، بہت سی آوازیں اٹھیں اور ہمیں باہر نکال دیا گیا ۔ تب میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابوکبشہ کے بیٹے ( آنحضرت ﷺ ) کا معاملہ تو بہت بڑھ گیا ۔ ( دیکھو تو ) اس سے بنی اصفر ( روم ) کا بادشاہ بھی ڈرتا ہے ۔ مجھے اس وقت سے اس بات کا یقین ہو گیا کہ حضور ﷺ عنقریب غالب ہو کر رہیں گے ۔ حتیٰ کہ اللہ نے مجھے مسلمان کر دیا ۔ ( راوی کا بیان ہے کہ ) ابن ناطور ایلیاء کا حاکم ہرقل کا مصاحب اور شام کے نصاریٰ کا لاٹ پادری بیان کرتا تھا کہ ہرقل جب ایلیاء آیا ، ایک دن صبح کو پریشان اٹھا تو اس کے درباریوں نے دریافت کیا کہ آج ہم آپ کی حالت بدلی ہوئی پاتے ہیں ۔ ( کیا وجہ ہے ؟ ) ابن ناطور کا بیان ہے کہ ہرقل نجومی تھا ، علم نجوم میں وہ پوری مہارت رکھتا تھا ۔ اس نے اپنے ہم نشینوں کو بتایا کہ میں نے آج رات ستاروں پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ ختنہ کرنے والوں کا بادشاہ ہمارے ملک پر غالب آ گیا ہے ۔ ( بھلا ) اس زمانے میں کون لوگ ختنہ کرتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ یہود کے سوا کوئی ختنہ نہیں کرتا ۔ سو ان کی وجہ سے پریشان نہ ہوں ۔ سلطنت کے تمام شہروں میں یہ حکم لکھ بھیجئے کہ وہاں جتنے یہودی ہوں سب قتل کر دئیے جائیں ۔ وہ لوگ انہی باتوں میں مشغول تھے کہ ہرقل کے پاس ایک آدمی لایا گیا ۔ جسے شاہ غسان نے بھیجا تھا ۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کے حالات بیان کئے ۔ جب ہرقل نے ( سارے حالات ) سن لیے تو کہا کہ جا کر دیکھو وہ ختنہ کئے ہوئے ہے یا نہیں ؟ انہوں نے اسے دیکھا تو بتلایا کہ وہ ختنہ کیا ہوا ہے ۔ ہرقل نے جب اس شخص سے عرب کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتلایا کہ وہ ختنہ کرتے ہیں ۔ تب ہرقل نے کہا کہ یہ ہی ( محمد ﷺ ) اس امت کے بادشاہ ہیں جو پیدا ہو چکے ہیں ۔ پھر اس نے اپنے ایک دوست کو رومیہ خط لکھا اور وہ بھی علم نجوم میں ہرقل کی طرح ماہر تھا ۔ پھر وہاں سے ہرقل حمص چلا گیا ۔ ابھی حمص سے نکلا نہیں تھا کہ اس کے دوست کا خط ( اس کے جواب میں ) آ گیا ۔ اس کی رائے بھی حضور ﷺ کے ظہور کے بارے میں ہرقل کے موافق تھی کہ محمد ﷺ ( واقعی ) پیغمبر ہیں ۔ اس کے بعد ہرقل نے روم کے بڑے آدمیوں کو اپنے حمص کے محل میں طلب کیا اور اس کے حکم سے محل کے دروازے بند کر لیے گئے ۔ پھر وہ ( اپنے خاص محل سے ) باہر آیا ۔ اور کہا :” اے روم والو ! کیا ہدایت اور کامیابی میں کچھ حصہ تمہارے لیے بھی ہے ؟ اگر تم اپنی سلطنت کی بقا چاہتے ہو تو پھر اس نبی ﷺ کی بیعت کر لو اور مسلمان ہو جاؤ ۔“ ( یہ سننا تھا کہ ) پھر وہ لوگ وحشی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف دوڑے ( مگر ) انہیں بند پایا ۔ آخر جب ہرقل نے ( اس بات سے ) ان کی یہ نفرت دیکھی اور ان کے ایمان لانے سے مایوس ہو گیا ۔ تو کہنے لگا کہ ان لوگوں کو میرے پاس لاؤ ۔ ( جب وہ دوبارہ آئے ) تو اس نے کہا ۔ میں نے جو بات کہی تھی اس سے تمہاری دینی پختگی کی آزمائش مقصود تھی سو وہ میں نے دیکھ لی ۔ تب ( یہ بات سن کر ) وہ سب کے سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑے اور اس سے خوش ہو گئے ۔ بالآخر ہرقل کی آخری حالت یہ ہی رہی ۔ ابوعبداللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو صالح بن کیسان ، یونس اور معمر نے بھی زہری سے روایت کیا ہے ۔

Sunday, 13 October 2024

احادیث مبارکہ

 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح وحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ وَمَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ نَحْوَهُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ :    كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ ، وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ ، وَكَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ ، فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ    .


 رسول اللہ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ جواد ( سخی ) تھے اور رمضان میں ( دوسرے اوقات کے مقابلہ میں جب ) جبریل آپ ﷺ سے ملتے بہت ہی زیادہ جود و کرم فرماتے ۔ جبریل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آپ ﷺ سے ملاقات کرتے اور آپ ﷺ کے ساتھ قرآن کا دورہ کرتے ، غرض آنحضرت ﷺ لوگوں کو بھلائی پہنچانے میں بارش لانے والی ہوا سے بھی زیادہ جود و کرم فرمایا کرتے تھے ۔

صحیح بخاری#6

کتاب وحی کے بیان میں 

احادیث مبارکہ

 حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ :    إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ    .



 آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ ’’ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا ۔ پس جس کی ہجرت ( ترک وطن ) دولت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض سے ہو ۔ پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کے لیے ہو گی جن کے حاصل کرنے کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے ۔‘‘


صحیح بخاری#1

کتاب وحی کے بیان میں


Saturday, 12 October 2024

احادیث مبارکہ

 ‏پیا جسے چاہے سہاگن وہی ہے۔


آپ ﷺ سے پوچھا گیا: عورتوں میں اچھی عورت کون سی ہے؟

آپ ﷺنے فرمایا: 

وہ عورت جو اپنے شوہر کو جب وہ اسے دیکھے خوش کر دے،

جب وہ کسی کام کا اسے حکم دے تو اسے بجا لائے،

اپنی ذات اور اپنے مال کے سلسلے میں شوہر کی مخالفت نہ کرے کہ اسے برا لگے ۔

نسائی،3233

Friday, 11 October 2024

احادیث مبارکہ

 قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ ، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : بَيْنَا أَنَا أَمْشِي إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي ، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، فَرُعِبْتُ مِنْهُ فَرَجَعْتُ ، فَقُلْتُ : زَمِّلُونِي ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى :    يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ { 1 } قُمْ فَأَنْذِرْ { 2 }    سورة المدثر آية 1-2 ، فَحَمِيَ الْوَحْيُ وَتَتَابَعَ ، تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، وَأَبُو صَالِحٍ ، وَتَابَعَهُ هِلَالُ بْنُ رَدَّادٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ يُونُسُ ، وَمَعْمَرٌ بَوَادِرُهُ .



 آپ ﷺ نے وحی کے رک جانے کے زمانے کے حالات بیان فرماتے ہوئے کہا کہ ایک روز میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان کی طرف ایک آواز سنی اور میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے بیچ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے ۔ میں اس سے ڈر گیا اور گھر آنے پر میں نے پھر کمبل اوڑھنے کی خواہش ظاہر کی ۔ اس وقت اللہ پاک کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں ۔ اے لحاف اوڑھ کر لیٹنے والے ! اٹھ کھڑا ہو اور لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھ اور گندگی سے دور رہ ۔ اس کے بعد وحی تیزی کے ساتھ پے در پے آنے لگی ۔ اس حدیث کو یحیی بن بکیر کے علاوہ لیث بن سعد سے عبداللہ بن یوسف اور ابوصالح نے بھی روایت کیا ہے ۔ اور عقیل کے علاوہ زہری سے ہلال بن رواد نے بھی روایت کیا ہے ۔ یونس اور معمر نے اپنی روایت میں لفظ «فواده» کی جگہ «بوادره» نقل کیا ہے ۔


صحیح بخاری#4

کتاب وحی کے بیان میں 

Thursday, 10 October 2024

احادیث مبارکہ

  آنحضرت ﷺ پر وحی کا ابتدائی دور اچھے سچے پاکیزہ خوابوں سے شروع ہوا ۔ آپ خواب میں جو کچھ دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح صحیح اور سچا ثابت ہوتا ۔ پھر من جانب قدرت آپ تنہائی پسند ہو گئے اور آپ ﷺ نے غار حرا میں خلوت نشینی اختیار فرمائی اور کئی کئی دن اور رات وہاں مسلسل عبادت اور یاد الٰہی و ذکر و فکر میں مشغول رہتے ۔ جب تک گھر آنے کو دل نہ چاہتا توشہ ہمراہ لیے ہوئے وہاں رہتے ۔ توشہ ختم ہونے پر ہی اہلیہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے اور کچھ توشہ ہمراہ لے کر پھر وہاں جا کر خلوت گزیں ہو جاتے ، یہی طریقہ جاری رہا یہاں تک کہ آپ پر حق منکشف ہو گیا اور آپ غار حرا ہی میں قیام پذیر تھے کہ اچانک حضرت جبریل علیہ السلام آپ کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اے محمد ! پڑھو آپ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا ، آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ فرشتے نے مجھے پکڑ کر اتنے زور سے بھینچا کہ میری طاقت جواب دے گئی ، پھر مجھے چھوڑ کر کہا کہ پڑھو ، میں نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ۔ اس فرشتے نے مجھ کو نہایت ہی زور سے بھینچا کہ مجھ کو سخت تکلیف محسوس ہوئی ، پھر اس نے کہا کہ پڑھ ! میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ۔ فرشتے نے تیسری بار مجھ کو پکڑا اور تیسری مرتبہ پھر مجھ کو بھینچا پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہنے لگا کہ پڑھو اپنے رب کے نام کی مدد سے جس نے پیدا کیا اور انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا ، پڑھو اور آپ کا رب بہت ہی مہربانیاں کرنے والا ہے ۔ پس یہی آیتیں آپ حضرت جبریل علیہ السلام سے سن کر اس حال میں غار حرا سے واپس ہوئے کہ آپ کا دل اس انوکھے واقعہ سے کانپ رہا تھا ۔ آپ حضرت خدیجہ کے ہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اوڑھا دو ، مجھے کمبل اوڑھا دو ۔ لوگوں نے آپ کو کمبل اوڑھا دیا ۔ جب آپ کا ڈر جاتا رہا ۔ تو آپ نے اپنی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو تفصیل کے ساتھ یہ واقعہ سنایا اور فرمانے لگے کہ مجھ کو اب اپنی جان کا خوف ہو گیا ہے ۔ آپ کی اہلیہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی ڈھارس بندھائی اور کہا کہ آپ کا خیال صحیح نہیں ہے ۔ خدا کی قسم ! آپ کو اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا ، آپ تو اخلاق فاضلہ کے مالک ہیں ، آپ تو کنبہ پرور ہیں ، بے کسوں کا بوجھ اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں ، مفلسوں کے لیے آپ کماتے ہیں ، مہمان نوازی میں آپ بےمثال ہیں اور مشکل وقت میں آپ امر حق کا ساتھ دیتے ہیں ۔ ایسے اوصاف حسنہ والا انسان یوں بے وقت ذلت و خواری کی موت نہیں پا سکتا ۔ پھر مزید تسلی کے لیے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں ، جو ان کے چچا زاد بھائی تھے اور زمانہ جاہلیت میں نصرانی مذہب اختیار کر چکے تھے اور عبرانی زبان کے کاتب تھے ، چنانچہ انجیل کو بھی حسب منشائے خداوندی عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے ۔ ( انجیل سریانی زبان میں نازل ہوئی تھی پھر اس کا ترجمہ عبرانی زبان میں ہوا ۔ ورقہ اسی کو لکھتے تھے ) وہ بہت بوڑھے ہو گئے تھے یہاں تک کہ ان کی بینائی بھی رخصت ہو چکی تھی ۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کے سامنے آپ کے حالات بیان کیے اور کہا کہ اے چچا زاد بھائی ! اپنے بھتیجے ( محمد ﷺ ) کی زبانی ذرا ان کی کیفیت سن لیجیئے وہ بولے کہ بھتیجے آپ نے جو کچھ دیکھا ہے ، اس کی تفصیل سناؤ ۔ چنانچہ آپ ﷺ نے از اول تا آخر پورا واقعہ سنایا ، جسے سن کر ورقہ بے اختیار ہو کر بول اٹھے کہ یہ تو وہی ناموس ( معزز راز دان فرشتہ ) ہے جسے اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی دے کر بھیجا تھا ۔ کاش ، میں آپ کے اس عہد نبوت کے شروع ہونے پر جوان عمر ہوتا ۔ کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا جب کہ آپ کی قوم آپ کو اس شہر سے نکال دے گی ۔ رسول کریم ﷺ نے یہ سن کر تعجب سے پوچھا کہ کیا وہ لوگ مجھ کو نکال دیں گے ؟ ( حالانکہ میں تو ان میں صادق و امین و مقبول ہوں ) ورقہ بولا ہاں یہ سب کچھ سچ ہے ۔ مگر جو شخص بھی آپ کی طرح امر حق لے کر آیا لوگ اس کے دشمن ہی ہو گئے ہیں ۔ اگر مجھے آپ کی نبوت کا وہ زمانہ مل جائے تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا ۔ مگر ورقہ کچھ دنوں کے بعد انتقال کر گئے ۔ پھر کچھ عرصہ تک وحی کی آمد موقوف رہی ۔

کتاب صحیح بخاری

احادیث نمبر3

Wednesday, 9 October 2024

احادیث مبارکہ

 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :   أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيُفْصَمُ عَنِّي ، وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ    ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ ، وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا .

 ایک شخص حارث بن ہشام نامی نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا تھا کہ حضور آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ وحی نازل ہوتے وقت کبھی مجھ کو گھنٹی کی سی آواز محسوس ہوتی ہے اور وحی کی یہ کیفیت مجھ پر بہت شاق گزرتی ہے ۔ جب یہ کیفیت ختم ہوتی ہے تو میرے دل و دماغ پر اس ( فرشتے ) کے ذریعے نازل شدہ وحی محفوظ ہو جاتی ہے اور کسی وقت ایسا ہوتا ہے کہ فرشتہ بشکل انسان میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے ۔ پس میں اس کا کہا ہوا یاد رکھ لیتا ہوں ۔‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے سخت کڑاکے کی سردی میں آنحضرت ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہوئی اور جب اس کا سلسلہ موقوف ہوا تو آپ ﷺ کی پیشانی پسینے سے شرابور تھی ۔


صحیح بخاری#2

کتاب وحی کے بیان میں


احادیث مبارکہ

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ :    إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ    .


 آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ ’’ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا ۔ پس جس کی ہجرت ( ترک وطن ) دولت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض سے ہو ۔ پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کے لیے ہو گی جن کے حاصل کرنے کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے ۔‘‘

صحیح بخاری#1
کتاب وحی کے بیان میں
He (peace and blessings of Allah be upon him) used to say that "All actions are based on intention and the result of every action will be according to the intention of the person." So whoever wants to migrate (emigrate) to gain worldly wealth or to marry a woman. So his migration will be to obtain those things with the intention of which he migrated. Sahih al-Bukhari #1 In the statement of the Book of Revelation

پاک بمقابلہ انگلش: جو روٹ نے پہلے ملتان ٹیسٹ کے تیسرے دن اہم سنگ میل عبور کر لیا۔

 روٹ اور بین ڈکٹ کے درمیان شراکت داری کے بشکریہ لنچ میں زائرین 232-2 تک پہنچ گئے

ملتان: انگلینڈ کے دائیں ہاتھ کے بلے باز جو روٹ نے بدھ کو ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا کیونکہ وہ ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ کے تیسرے دن اپنے ملک کے لیے ریڈ بال فارمیٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی بن گئے۔ روٹ نے دن کا آغاز 32 ناٹ آؤٹ پر کیا، انہیں الیسٹر کک کے 12,472 کے مجموعی سکور کو گرہن کرنے کے لیے مزید 39 رنز درکار تھے، اور سابق کپتان عامر جمال کی گیند پر چار رنز بنا کر اپنے ہدف کو آسان کر گئے، اس سے پہلے کہ سفر کرنے والے انگلش شائقین کی جانب سے زوردار تالیاں بجائیں۔ . ان کی نصف سنچری نے تیسرے دن لنچ تک ٹیم کو 2-232 تک پہنچا دیا۔ قبل ازیں، مہمان ٹیم نے ایک فلیٹ پچ پر اپنی پہلی اننگز میں 556 رنز بنانے کے بعد 96-1 سے اپنی اننگز دوبارہ شروع کی۔ تاہم، وہ پہلے گھنٹے کے اندر ہی 78 کے سکور پر زیک کرولی سے محروم ہو گئے جب اوپنر نے مڈ وکٹ پر شاہین آفریدی کی طرف سے عامر جمال کو ایک فلک کیا۔ اس نے اچانک دوسری وکٹ کے لیے 109 رنز کا جوڑ توڑ دیا لیکن انگلینڈ سست ہونے کے موڈ میں نہیں تھا۔ ڈکٹ، جس نے کیچ لیتے ہوئے اپنا بائیں انگوٹھا منقطع کر دیا تھا اور منگل کو کھلنے سے قاصر تھے، اس مسئلے کے کوئی آثار نہیں دکھائے گئے کیونکہ وہ کریز پر آئے اور 30ویں اوور میں تین باؤنڈریز کے ساتھ اسپنر ابرار احمد کو عارضی طور پر حملے سے باہر کر دیا۔ اسے اپنی نصف سنچری مکمل کرنے کے لیے صرف 45 گیندوں کی ضرورت تھی کیونکہ میزبان ٹیم رن ریٹ کو پانچ اوور سے کم رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہی تھی۔ کریز پر روٹ (79*) اور بین ڈکٹ (82*) کے ساتھ، اسکور 243-2 پر ہے اور انگلش سائیڈ لنچ کے بعد 313 رنز سے پیچھے ہے۔ پلیئنگ الیون پاکستان: شان مسعود (کپتان)، سعود شکیل (نائب کپتان)، صائم ایوب، عبداللہ شفیق، بابر اعظم، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، سلمان علی آغا، عامر جمال، شاہین آفریدی، نسیم شاہ، ابرار احمد انگلینڈ: زیک کرولی، بین ڈکٹ، اولی پوپ (کپتان)، جو روٹ، ہیری بروک، جیمی اسمتھ، کرس ووکس، گس اٹکنسن، برائیڈن کارس، جیک لیچ، شعیب بشیر

شہروز کاشف سب سے کم عمر پاکستانی کوہ پیما بن گئے تمام 14 '8,000 میٹر' کی چوٹی سر کرنے والے

 کراچی: پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف نے 8000 میٹر سے زیادہ کی تمام 14 چوٹیوں کو سر کرنے والے ملک کے کم عمر ترین کوہ پیما بن کر تاریخ رقم کردی۔ 


22 سالہ نوجوان نے آج یہ سنگ میل شیشاپنگما کی چوٹی پر پہنچ کر حاصل کیا، جو 8,027 میٹر پر ہے۔

Friday

 ﺑِﺴْـــــــــــــــــــــــﻢِ ﺍﻟﻠﮧِ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤٰﻦِ ﺍﻟﺮَّﺣِﯿْﻢِ ﺍﻟﺴَّـــــــﻼَﻡُ ﻋَﻠَﻴــْــﻜُﻢ ﻭَﺭَﺣْﻤَﺔُ ﺍﻟﻠﻪِ ﻭَﺑَﺮَﻛـَـﺎﺗُﻪ صَـبَـــــــــــ...