Friday, 27 December 2024

گیدڑ سنگھی

 ‏تھریڈ 🧵🧵🧵

تحریر سے پہلے میں آپکو واضع کردوں کہ آپکا متفق ہونا ضروری نہیں۔۔۔اور نہ ہی یہ حرف آخر ہے۔۔


 اس تحریر میں آپکو گیدڑ سنگھی کے بارے میں معلومات دی جائیں گی 



گیدڑ سنگھی ہرن کی ناف میں ہوتی ہے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہرن کے سر میں سینگوں کے درمیان ہوتی ہے اور مخصوص وقت کے بعد گر جاتی ہے۔۔ہرن چونکہ مخصوص علاقوں میں ہوتے ہیں اور گیدڑ سنگھی میں خدا کی کوئی حکمت ہے کہ گیدڑ سنگھی زندہ ہوتی ہے اور گیدڑ سنگھی میں بھی نر ،مادہ ہوتے ہیں ، گیدڑ سنگھی بچے بھی دیتی ہے۔۔۔

بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ جس کے پاس گیدڑ سنگھی ہو اس پہ عورتیں بہت مہربان ہوتی ہیں لیکن گیدڑ سنگھی کی اور بہت سی افادیت ہیں کہ جیسے بہت سخت دشمنی ہو اور پچائیت میں آپ گیدڑ سنگھی لے کر چلے جائیں تو صلح ہو جاتی ہے اور دشمنی ختم ہوجاتی ہے۔۔ 

گیدڑ سنگھی جیب میں رکھ کر آپ شہنشاہ کے پاس چلے جائیں تو وہ آپکی بات سنے گا بھی اور مانے گا بھی۔۔

گیدڑ سنگھی گھر میں رکھنے سے منحوست بھاگ جاتی ہے اور دولت کئی راستوں سے گھر میں آنے لگتی ہے۔۔

گیدڑ سنگھی کو آپ جائز کام میں استعمال کریں تو بے شمار فوائد دیتی ہے اگر ناجائز کاموں میں استعمال کریں تو پھر چند دن کے بعد ہی آپکو نقصان دینے لگتی ہے۔۔


گیدڑ سنگھی کو سندور یا ہلدی میں رکھا جاتا ہے اور عطر، الائچی، لونگ بھی ساتھ رکھے جاتے ہیں پھر یہ تیز ترین کام کرتی ہے۔۔

گیدڑ سنگھی صرف جوگیوں سپیروں کے پاس ہوتی ہے جوگی سپیرے چونکہ جنگلوں میں سانپوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور ہرن بھی جنگوں میں ہوتے ہیں تو انکو ملتی رہتی ہے۔۔

جوگی سپیرے چونکہ ایک درویش قوم ہوتی ہے اس لئے وہ گیدڑ سنگھی چند سو روپے کے عوض آپکو دے دیتے ہیں اور اگر کسی پڑھے لکھے شہری کے پاس ہو تو آپکو پہلے نمبر پہ دے گا ہی نہیں اور اگر دے گا بھی تو لاکھوں روپے میں دے گا۔۔

Thursday, 19 December 2024

Tire's

 یہ معلومات واقعی بہت مفید ہے اور بہت سے لوگ اسے نہیں جانتے۔



🚗 ہر ٹائر کی رفتار کی حد ہوتی ہے اور اس کی ایک مدتِ معیاد بھی ہوتی ہے جو اس پر لکھی ہوتی ہے۔ یہ معلومات ٹائر کی دیوار پر درج ہوتی ہے۔


مثال کے طور پر، اگر آپ کو ٹائر پر "1423" لکھا ہوا ملے، تو اس کا مطلب ہے کہ یہ ٹائر سال 2023 کے چودھویں ہفتے میں بنایا گیا ہے۔

ٹائر کی معیاد عام طور پر 2 سے 4 سال ہوتی ہے، اس کے بعد اسے تبدیل کر دینا چاہیے۔


🚙 ہر ٹائر کی رفتار کی ایک حد ہوتی ہے جو ایک حرف سے ظاہر ہوتی ہے:


حرف "L" کا مطلب ہے کہ ٹائر کی زیادہ سے زیادہ رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔


حرف "M" کا مطلب ہے 130 کلومیٹر فی گھنٹہ۔


حرف "N" کا مطلب ہے 140 کلومیٹر فی گھنٹہ۔


حرف "P" کا مطلب ہے 150 کلومیٹر فی گھنٹہ۔


حرف "Q" کا مطلب ہے 160 کلومیٹر فی گھنٹہ۔


حرف "R" کا مطلب ہے 170 کلومیٹر فی گھنٹہ۔


اور حرف "H" کا مطلب ہے کہ ٹائر 210 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار برداشت کر سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اکثر ٹائر تیز رفتاری کے دوران پھٹ جاتے ہیں، کیونکہ وہ مقررہ رفتار سے زیادہ دباؤ برداشت نہیں کر سکتے۔

لہٰذا، ہمیشہ اپنے ٹائر پر درج حرف چیک کریں اور رفتار کا خیال رکھیں

Tuesday, 17 December 2024

Strawberry

 Strawberry 🍓 



Here's a classic strawberry shortcake recipe:

Ingredients:

- 2 cups all-purpose flour

- 1/4 cup granulated sugar

- 2 teaspoons baking powder

- 1/4 teaspoon salt

- 1/2 cup cold unsalted butter, cut into small pieces

- 3/4 cup heavy cream, plus more for brushing

- 3 cups sliced strawberries

- 2 tablespoons granulated sugar

- Whipped cream, for serving



Instructions:


1. Preheat oven to 375°F (190°C).

2. Make the shortcake: Combine flour, sugar, baking powder, and salt. Add cold butter and mix until crumbly. Pour in heavy cream and mix until dough forms.

3. Roll out dough and cut into rounds. Brush with heavy cream and bake for 18-20 minutes.

4. Prepare the strawberries: Mix sliced strawberries with granulated sugar. Let it sit for about 15-20 minutes, until strawberries start to release their juice.

5. Assemble the shortcake: Split the shortcake in half horizontally. Spoon some of the sweetened strawberries over the bottom half of the shortcake. Top with the top half of the shortcake. Serve with whipped cream.




Thursday, 12 December 2024

مسجد نبوی کی اہم معلومات

 ‏مؤذّن

المبارکپوری کے مطابق پیغمبر اسلام نے اپنے صحابی حضرت بلال بن رباح کو مسجدِ نبوی کا پہلا مؤذّن مقرر کیا تھا۔

روایت کے مطابق جب صحابی رسول عبداللہ بن زید نے پیغمبرِ اسلام کو اذان کے بارے میں اپنے خواب سے آگاہ کیا تو انھوں نے ان سے کہا وہ بلال کی تربیت کریں کیونکہ ان کی آواز بلند ہے اور وہ لوگوں کو نماز کے لیے بلاوا دیں گے۔

سعودی اخبار الریاض کے مطابق چیف مؤذّن شیخ عبدالرحمان خشوقجی کا کہنا ہے کہ آج کل مسجدِ نبوی میں مؤذّنوں کی تعداد 17 ہے جو روزانہ پانچ وقت اذان دیتے ہیں۔

ہر روز ان میں سے تین مؤذّن پانچ وقت مکبریہ سے اذان دیتے ہیں اور نماز کے دوران امام کی آواز نمازیوں تک واضح طور پر پہنچانے کے لیے دہراتے ہیں۔


ابتدا

المبارکپوری کے مطابق پیغمبر اسلام نے مدینہ پہنچنے پر یہ زمین دس دینار میں دو یتیموں ساحل اور سہیل سے خریدی تھی۔ اس سے قبل یہ زمین کھجوریں سکھانے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔

پیغمبرِ اسلام نے خود اس مسجد کی تعمیر میں شرکت کی تھی۔ تعمیر کے لیے پتھر کی بنیادوں کا استعمال کیا گیا اور مٹی کی دیواریں بنائی گئیں۔ کھجور کے درختوں کے تنے اور شاخیں چھت کے لیے استعمال کی گئیں۔


اس وقت مسجد کے تین دروازے تھے اور اس کا رخ مسجدِ الاقصیٰ کی جانب تھا جو کہ اس وقت کا قبلہ تھا۔ اس میں غریبوں اور مسافروں کو پناہ دینے کے لیے ایک سایہ دار حصہ بھی بنایا گیا تھا۔

بعد میں قبلے کا رخ تبدیل کر کے کعبے کی جانب کر دیا گیا تھا اور ایک دروازے کو بند کر کے دوسری سمت میں ایک اور دروازہ بنا دیا گیا تھا۔ .

جب صحابہ نے پیغمبرِ اسلام کو تجویز دی کہ چھت کو گارے سے پختہ کر دیا جائے، تو انھوں نے انکار کرتے ہوئے کہا: ’نہیں، یہ چھت عریشِ موسیٰ کی طرح رہے گی، موسیٰ کی چھپر نما چھت کی طرح۔‘ اس کے تین سال بعد تک فرش کو کسی چیز سے ڈھکا نہیں گیا تھا۔ 

مسجد کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مسجد کا ابتدائی رقبہ 1050 مربع میٹر تھا اور ہجرت کے سات سال بعد پیغمبرِ اسلام کی ہدایت پر اسے بڑھا کر 1425 مربع میٹر کر دیا گیا تھا۔

Wednesday, 11 December 2024

مسجد نبوی کی اہم معلومات

 امامت

پیغمبرِ اسلام وہ پہلی شخصیت تھے جنھوں نے اس مسجد میں نماز کی امامت کی۔ ان کے وصال کے بعد ان کے ساتھی صحابہ یہ عمل سرانجام دیتے رہے۔

شیخ علی بن عبد الرحمان الحذيفي اس وقت مسجدِ نبوی کے مرکزی امام ہیں تاہم 11 اکتوبر 2019 کو سعودی حکومت نے مزید دو مستقل اماموں کی تعیناتی کی ہے جن میں موجودہ امام کے بیٹے شیخ احمد حذیفی کے علاوہ شیخ خالد المہانہ شامل ہیں۔

ان کے علاوہ دیگر امام بھی موجود ہیں جو خصوصاً تہجد کی نماز کی امامت کرتے ہیں۔



مسجد نبوی کی اہم معلومات

 ‏مسجد کے گرد و نواح اور انتظام:

جنت البقیع کا تاریخی قبرستان جو اب مسجد کی مغربی دیوار کے باہر ہے ان چند عمارتوں اور جگہوں میں شامل ہیں جو مسجد کے چاروں اطراف موجود ہیں۔ یہ قبرستان بھی مسلمانوں کے لیے اہم ہے کیونکہ یہاں پیغمبرِ اسلام کی اہلیہ، بیٹی اور دیگر رشتہ داروں کی قبور ہیں۔ 

مسجد کے احاطے کے گرد جو دیگر عمارتیں اور جگہیں ہیں ان میں سعودی حکومت کے ادارے، ہسپتال، شاپنگ مال، پرتعیش ہوٹل اور بڑی شاہراہیں شامل ہیں۔

مدینہ کی مسجد نبوی اور مکہ کی مسجد الحرام دونوں کا انتظام ایک خصوصی ادارہ چلاتا ہے جبکہ مسجد کی نگرانی کی ذمہ داری سعودی شاہی خاندان کی ہے اور سعودی بادشاہ خود کو خادم الحرمین شریفین کہلاتے ہیں۔



Tuesday, 10 December 2024

مسجد نبوی کی اہم معلومات

 ‏گنجائش

عصر حاضر کی اسلامی فکر کے ایک ماہنامہ رسالے میں مسجد نبوی کی تاریخ اور گنبد خضریٰ کے عنوان سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں ظفر بنگش لکھتے ہیں کہ ابتدا میں مسجد نبوی کا رقبہ صرف 98 ضرب 115 فٹ تھا۔

تاہم آنے والے ادوار میں مسجد کو کئی مرتبہ وسعت دی گئی تاکہ دنیا بھر سے آنے والے لوگوں، خاص طور پر حجاج کرام کے لیے ایک وقت میں نماز ادا کرنے کی زیادہ سے زیادہ گنجائش پیدا کی جا سکے۔ خیال رہے کہ یہ مسجد مسلمانوں کے ان تین مقدس ترین مقامات میں ایک ہے جہاں ثواب حاصل کرنے کی غرض سے طویل سفر کی اجازت ہے۔

ڈاکٹر شفیق عمر نے اپنے ایک تحقیقی مقالے میں تحریر کیا ہے کہ اپنے ابتدائی رقبے کے لحاظ سے یہ مسجد اب سو گنا بڑی ہے اور تقریباً پورے قدیم شہر پر پھیلی ہوئی ہے۔

پروفیسر صاحب نے بیان کیا ہے کہ مسجد کی بیرونی دیوار اب جنت البقیع کے قبرستان سے مل گئی ہے جو پیغمبرِ اسلام کی زندگی میں شہر کے مضافات میں تھا اور انھوں نے اس بارے میں ڈاکٹر محمد واجد اختر کی کتاب 'نو حقائق جو آپ مسجدِ نبوی کے بارے میں نہیں جانتے' کا حوالہ دیا ہے۔

مسجد کو وسعت دینے کا حالیہ منصوبہ جو شاہ عبداللہ نے 2012 شروع کروایا تھا پایہ تکمیل تک پہنچنے پر 18 لاکھ افراد کے لیے اس مسجد میں بیک وقت نماز ادا کرنے کی گنجائش فراہم کر دے گا۔

سعودی عرب کے وزیر خزانہ ابراھیم العساف کا کہنا ہے کہ مسجد کے مرکزی حصے کی عمارت چھ لاکھ 14 ہزار 800 مربع میٹر پر مشتمل ہو گی جبکہ مسجد اور اس کے صحنوں کا مجموعی رقبہ 10 لاکھ 20 ہزار 500 مربع میٹر پر محیط ہو گا جس کے بعد 10 لاکھ افراد مسجد کی مرکزی عمارت اور آٹھ لاکھ اس کے بیرونی صحن میں بیک وقت میں نماز ادا کر سکیں گے۔ 

عرب نیوز نے مسجد کے ترجمان شیخ عبدالواحد الحطاب کے حوالے سے اطلاع دی تھی کہ شاہ عبداللہ نے مسجد کے اندر خصوصی طور تیار کی گئی 250 چھتریاں لگانے کا حکم دیا تھا جو ایک لاکھ 34 ہزار مربع میٹر علاقے کو سایہ فراہم کریں گی۔ یہ خودکار چھتریاں دوہری تہہ والی ہوں گی تاکہ نمازیوں کو بارش اور صحرائے عرب کی چلچلاتی دھوپ سے مکمل طور پر محفوظ رکھا جائے۔ 

مسجد کو وسعت دینے کے منصوبے کے دوسرے اور تیسرے مرحلے میں دس لاکھ نمازیوں کی گنجائش فراہم کر دی جائے گی جبکہ پہلے مرحلے میں آٹھ لاکھ افراد کی جگہ بنائی جائے گی۔



Monday, 9 December 2024

صباح الخیر

 ﺑِﺴْـــــــــــــــــــــــﻢِ ﺍﻟﻠﮧِ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤٰﻦِ ﺍﻟﺮَّﺣِﯿْﻢِ

ﺍﻟﺴَّـــــــﻼَﻡُ ﻋَﻠَﻴــْــﻜُﻢ ﻭَﺭَﺣْﻤَﺔُ ﺍﻟﻠﻪِ ﻭَﺑَﺮَﻛـَـﺎﺗُﻪ

صَـبَـــــــــــــــــٍّآٍْآٍٍْْآٍٍٍْْْآٍٍْْآٍْح ْآٍْآٍٍْْآٍٍٍْْْآٍٍْْآٍْلَـٍّخــــــــــــــــير

زندگی کی الجھنیں سلجھ جاتی ہیں، ﷲ تعالٰی راستے نکال دیتا ہے، اس کی حکمت ہماری سوچ سے آگے ہے، ضرورت صرف یقین اور ایمان کی پختگی کی ہے

دعا ہے رب جلیل سے کہ وہ ہمیشہ ہماری تمام غلطیوں کوتاہیوں کو اپنے فضل سے معاف فرمائے، صحت اور ایمان والی زندگی عطا فرمائے، تمام روحانی، جسمانی بیماریوں سے شفا کاملہ نصیب فرمائے، مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے، ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے اور مظلوم مسلمانوں کی مدد فرمائے

آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ بِجَاہِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ عَلَیْہِ أَفْضَلُ الصَّلَاۃِ وَالسَّلَامِ وَالتَّحِیَّۃِ وَالثَّنَاءِ وَالتَّسْلِیْمِ وَعَلٰی آلِہٖ وَاَزْوَاجِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا

مسجد نبوی کی اہم معلومات

مدینہ کی مسجدِ نبوی
 مٹی کے کمرے سے دنیا کی دوسری بڑی مسجد تک. مکمل تھریڈ 

سعودی عرب کے شہر مدینہ میں واقع مسجدِ نبوی دنیا میں مسلمانوں کا دوسرا مقدس ترین مقام ہے اور اسے پیغمبرِ اسلام کی زندگی میں ان کے ہیڈکوارٹر کی حیثیت حاصل تھی۔
اسلامی روایات کے مطابق مسجد نبوی میں ادا کی گئی نماز کا ثواب مکہ میں خانہ کعبہ والی مسجد الحرام کے علاوہ کسی بھی دیگر مسجد میں ادا کی گئی نماز کے مقابلے میں ہزار گنا زیادہ ہے۔
پیغمبرِ اسلام نے یہ مسجد مکہ سے اُس وقت یثرب کہلائے جانے والے شہر مدینہ ہجرت کرنے کے بعد تعمیر کروائی اور مسجدِ قبا کے بعد مدینہ میں تعمیر کی جانے والی یہ دوسری مسجد تھی۔

اسلامی روایات کے مطابق اسی مسجد میں وہ مقام بھی واقع ہے جسے ’ریاض الجنہ‘ یا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ کہا جاتا ہے۔ صحیح بخاری میں ابو ہریرہ سے منسوب ایک حدیث کے مطابق پیغمبر اسلام نے کہا تھا کہ 'میرے گھر اور مسجد نبوی کے منبر کے درمیان ایک جگہ جنت کے باغ کا ٹکڑا ہے۔


‏1400 برس سے زیادہ قدیم مسجد آج وسعت پاتے پاتے قدیم مدینہ شہر کی حدود سے باہر تک پھیل گئی ہے اور وہ سارا علاقہ جو اسلام کے ابتدائی دور کا شاہد ہے اب اس کا حصہ بن چکا ہے۔
اس علاقے میں اسلام کے ابتدائی دور کی ہزاروں نشانیاں موجود تھیں جیسے کہ روضۂ رسول جہاں دو صحابہ ابوبکر اور عمر بھی دفن ہیں، پیغمبر اسلام کی اہلیہ حضرت عائشہ کا حجرہ، پیغمبرِ اسلام کی دیگر بیویوں کے مکانات، گذشتہ صدیوں میں مسجد کو دی جانے والی وسعت کے نتیجے میں اب اس کے اندر آ گئے ہیں۔ 
1441 برس قبل یہ مسجد پیغمبر اسلام کے گھر سے متصل جگہ پر 632 عیسوی میں تعمیر کی گئی تھی اور آنے والی صدیوں میں کئی مرتبہ اس کو وسعت دی جاتی رہی۔ 
سلطان غالب القعیطی نے مسلمانوں کے مقدس شہروں، حج اور دنیائے اسلام کے بارے میں اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ 1909 میں جزیرہ نما عرب میں مسجد نبوی وہ واحد عمارت تھی جہاں روشنی کے لیے بجلی کا استعمال کیا جاتا تھا۔
سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیر کے دور میں اس کو وسیع کرنے کا سب سے بڑا منصوبہ شروع کیا گیا جو اب بھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد ہر برس کروڑوں عقیدت مندوں کی منزل بننے والی اس مسجد میں ایک وقت میں 18 لاکھ افراد کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہو گی۔


Sunday, 8 December 2024

History

‏سب سے زیادہ بےحیا قوم لوط علیہ سلام کی قوم تھی یہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں میں دلچسپی رکھتے تھے 

خاص کر مسافروں میں سے کوئی خوبصورت لڑکا ہوتا تو یہ لوگ اسے اپنا شکار بنا لیتے طلموت میں لکھا ہے

 کہ اہل سدوم اپنی روز مرہ کی زندگی میں سخت ظالم دھوکہ باز اور بد معاملہ تھے

 کوئی مسافر ان کے علاقے سے بخیریت نہیں گزر سکتا تھا 

کوئی غریب ان کی بستیوں سے روٹی کا ایک ٹکڑا نہ پا سکتا تھا۔ 



کئی مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ باہر کا آدمی ان کے علاقے میں پہنچ کر فاقوں سے مر جاتا تھا اور یہ لوگ اس کے کپڑے اتار کر اس کی لاش کو برہنہ دفن کر دیتے۔ اپنی وادی کو انہوں نے ایک باغ بنا رکھا تھا

۔ جس کا سلسلہ میلوں تک پھیلا ہوا تھا اس باغ میں وہ انتہائی بے حیائی کے ساتھ اعلانیہ بد کاریاں کرتے تھے۔


 حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں توحید کی دعوت دی اور بدکاری کے اس گھناونے عمل سے توبہ کرنے کا حکم دیا۔

 حضرت لوط نے کہا تم  یہ کیوں کرتے ہو کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذت حاصل کرنے کے لیے مرد کی طرف مائل ہوتے ہو۔

 حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو۔ تو پھر حضرت لوط اہل سدوم کو دن رات وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے۔ لیکن اس قوم پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔

 بلکہ وہ بدنصیب بہت فخریہ انداز میں یہ کام کرتے تھے انہیں حضرت لوط کا سمجھانا بھی برا لگتا تھا

 لہذا انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اگر تم ہمیں اسی طرح بھلا کہتے رہے اور ہمارے کاموں میں مداخلت کرتے رہے

 تو ہم تمہیں اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ حضرت لوط نے نصیحت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔

 لہذا ایک دن اہل سدوم نے خود ہی عذاب الہی کا مطالبہ کر دیا۔

 اللہ تعالی نے اب تک ان کے اس بدترین عمل فحاشی اور بدکاری کے باوجود ڈھیل دے رکھی تھی۔

 لیکن جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے ایک دن کہا 

کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ۔ 

لہذا ان پر عذاب الہی کا فیصلہ ہوگیا۔ 

اللہ نے اپنے خاص فرشتوں کو دنیا کی طرف روانہ کر دیا۔ یہ فرشتے دراصل حضرت میکائیل، اور جبرائل  علیہ السلام تھے

 پھر یہ فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے گھر تشریف لے آئے۔

 حضرت لوط نے جب ان خوبصورت نوعمر لڑکوں کو دیکھا تو سخت گھبراہٹ اور پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔ 

انہیں یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ اگر ان کی قوم کے لوگوں نے انہیں دیکھ لیا۔

 تو نہ جانے وہ انکے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ حضرت لوط کی بیوی کا نام وائلہ تھا 

اس نے آپ پر ایمان نہیں لایا تھا 

اور وہ دراصل منافقہ تھی۔ وہ کافروں کے ساتھ تھی لہذا اس نے جاکر اہل سدوم کو یہ خبر دے دی۔ 

کہ لوط کے گھر دو نوجوان لڑکے مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں

 یہ سن کر بستی والے دوڑتے ہوئے۔ حضرت لوط کے گھر پہنچے

 حضرت لوط نے کہا کہ یہ جو میری قوم کی لڑکیاں ہیں

 یہ تمہارے لیے جائز اور پاک ہیں اللہ سے ڈرو مجھے میرے مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کرو۔

 کیا تم میں سے کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں،؟

 حضرت لوط علیہ السلام کی بات سن کر وہ لوگ بولے

 تم بخوبی واقف ہو کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کوئی حاجت نہیں

 اور جو ہماری اصل چاہت ہے اس سے تم بخوبی واقف ہو۔

 قوم لوط کے اس شرم سار جواب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے 

کہ وہ فعل بد میں کس حد تک مبتلا ہو چکے تھے

 جب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم ان کے گھر کی طرف دوڑتی ہوئی آئی تو حضرت لوط نے گھر کے دروازے بند کر دیے اور ان نوجوانوں کو ایک کمرے میں چھپا دیا۔ 

ان بدکار لوگوں نے آپ کے گھر کا گھیراؤ کیا ہوا تھا 

اور ان میں سے کچھ گھر کے دیوار پر بھی چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے 

حضرت لوط علیہ السلام اپنے مہمانوں کی عزت کے خیال سے بہت زیادہ گھبرائے ہوئے تھے فرشتے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کی بے بسی اور پریشانی کا یہ عالم دیکھا۔ تو حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے یوں فرمایا۔

 اے لوط ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں

 یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے

۔ ابھی کچھ رات باقی ہے تو آپ اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو 

اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ 

اہل سدوم حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کا دروازہ توڑنے پر بضد تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے گھر سے باہر نکل کر اپنے پر کا ایک کونا انہیں مارا۔

 جس سے ان کی آنکھوں کے ڈھیلے باہر نکل آئے

 اور بصارت ظاہر ہوگئی

 یہ خاص عذاب ان لوگوں کو پہنچا۔ جو حضرت لوط کے پاس بدنیتی سے آئے تھے۔ حضرت لوط علیہ السلام حقیقت حال جان کر مطمئن ہو گئے

 اور اپنے گھر والوں کے ساتھ رات کو ہی نکل کھڑے ہوئے۔ 

لیکن پھر بھی ان کی بیوی ان کے ساتھ تھی لیکن کچھ دور جا کر وہ واپس اپنے قوم کی طرف پلٹ گئی اور قوم کے ساتھ جہنم واصل ہو گئی۔ 

صبح کا آغاز ہوا تو اللہ کے حکم سے حضرت جبرئیل نے بستی کو اوپر سے اکھاڑ دیا اور پھر اپنے بازو پر رکھ کر آسمان پر چڑھ گئے یہاں تک کہ آسمان والوں نے بستی۔۔۔

‏کے کتے کے بھونکنے اور مرغوں کے بولنے کی آوازیں سنیں

۔ پھر اس بستی کو زمین پر دے مارا جس کے بعد ان پر پتھروں کی بارش ہوئی۔

 ہر پتھر پر مرنے والے کا نام لکھا ہوا تھا۔

 جب یہ پتھر ان کو لگتے تو ان کے سر پاش پاش ہوجاتے۔

 صبح سویرے شروع ہونے والا 

یہ عذاب اشراک تک پوری بستی کو نیست و نابود کر چکا تھا 

قوم لوط کی ان خوبصورت بستیوں کو اللہ نے ایک انتہائی بد بو دار 

اور سیاہ جیل میں تبدیل کردیا۔ جس کے پانی سے رہتی دنیا تک کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ 

سمندر کے اس حصے میں کوئی جاندار مچھلی، مینڈک وغیرہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے اسے ڈیڈ سی یعنی بحرے مردار کہا جاتا ہے

 جو اسرائیل اور اردن کے درمیان واقع ہے۔ ماہرین آثار نے دس سالوں کی تحقیق و جستجو کے بعد اس تباہ شدہ شہر کو دریافت کیا تھا۔

 تحقیقات سے پتہ چلا تھا کہ اس شہر میں زندگی بالکل ختم ہو چکی ہے۔

 شہر کے راستے اور کھنڈرات کو دیکھ کر ارکلوجسٹ نے یہ اندازہ لگایا

 کہ جب یہ شہر تباہ ہوا تو اس وقت لوگ روزمرہ کے معاملات اور کاموں میں مشغول تھے

 اور یہاں زندگی اچانک ختم ہو گئی تھی


 اہل سدوم جنہیں پتھر بنا دیا گیا تھا۔ ان کے بت ابھی تک بحیرہ مردار کے پاس موجود ہیں جو لوگوں کے لیے ایک عبرت ہے 

آج یورپی ممالک میں انسانی آزادی کے نام پر اس بدکاری کی اجازت دی جاتی ہے 

اور اس فحش عمل کو باعث فخر سمجھا جاتا ہے

  روایتوں کے مطابق ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے شیطان سے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین عمل کیا ہے ابلیس بولا جب مرد مرد سے بدفعلی کرے اور عورت عورت سے خواہش پوری کرے!

اور مجھے شرم آتی ھے یہ کہتے ھوئے کہ

آج ھمارے معاشرے میں یہی سب چل رہا ہے بلکہ اس قبیح کام کو قانون کی سر پرستی حاصل ہے ۔۔۔

اللہ ھماری دنیاوی اور اخروی زندگی کو بہتر بنانے کی عقل و عمل عطاء فرمائے ۔۔۔!

دلچسپ معلومات

 چاند جھیل، جو چین کے گوبی صحرا میں واقع ہے، ایک قدرتی ہلالی شکل کی تشکیل ہے جو ریت کے ٹیلوں سے گھری ہوئی ہے۔ اسے یویہکوان بھی کہا جاتا ہے، اور یہ صدیوں سے سلک روڈ پر مسافروں کے لیے ایک اہم مقام رہا ہے۔ اگرچہ یہ خشک علاقے میں واقع ہے، لیکن یہ زیرِ زمین پانی اور جدید تحفظ کے اقدامات کی بدولت قائم ہے۔ اس کی منفرد خوبصورتی اور تاریخی اہمیت اسے ایک نمایاں سیاحتی مقام بناتی ہے۔


چاند جھیل کے بارے میں ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ، گوبی صحرا سے گھری ہونے کے باوجود، اس کی ہلالی شکل پچھلے 2,000 سالوں سے تقریباً محفوظ رہی ہے۔ یہ اس کے زیرِ زمین پانی اور حالیہ انسانی مداخلتوں کی بدولت ممکن ہوا ہے، جس نے اسے صحرا بننے سے بچایا ہے



Saturday, 7 December 2024

احادیث مبارکہ

 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ :    مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ    .



 لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کون سا اسلام افضل ہے ؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا وہ جس کے ماننے والے مسلمانوں کی زبان اور ہاتھ سے سارے مسلمان سلامتی میں رہیں ۔

صحیح بخاری#11

کتاب ایمان کے بیان میں

Thursday, 5 December 2024

جمعہ مبارک

 ﺑِﺴْـــــــــــــــــــــــﻢِ ﺍﻟﻠﮧِ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤٰﻦِ ﺍﻟﺮَّﺣِﯿْﻢِ

ﺍﻟﺴَّـــــــﻼَﻡُ ﻋَﻠَﻴــْــﻜُﻢ ﻭَﺭَﺣْﻤَﺔُ ﺍﻟﻠﻪِ ﻭَﺑَﺮَﻛـَـﺎﺗُﻪ

صَـبَـــــــــــــــــٍّآٍْآٍٍْْآٍٍٍْْْآٍٍْْآٍْح ْآٍْآٍٍْْآٍٍٍْْْآٍٍْْآٍْلَـٍّخــــــــــــــــير


                     جمعتہ المبارک 

اے ہمارے پیارے رب اس دن میں جو خیر آپ نے رکھی ہے ے وہ ہمیں نصیب فرما ، جو شر ہے اس سے ہماری حفاظت فرما. 

اے ہمارے مہربان رب.! 

*ہمارے خالی دامن کو اپنی رحمت سے بھر دے*.‎

*ہرکام میں آسانیاں فرما ۔ ہر شر ،ہر شریر اور شیطان سے حفاظت فرما*.‎ 

*اے دو جہانوں کے مالک، ہم سب کو اپنا ڈر اور در نصیب فرما دے ۔ مجھے اور میرے پیاروں کو اپنی حفظ و امان میں رکھ۔*

آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ بِجَاہِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ عَلَیْہِ أَفْضَلُ الصَّلَاۃِ وَالسَّلَامِ وَالتَّحِیَّۃِ وَالثَّنَاءِ وَالتَّسْلِیْمِ وَعَلٰی آلِہٖ وَاَزْوَاجِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا

Friday

 ﺑِﺴْـــــــــــــــــــــــﻢِ ﺍﻟﻠﮧِ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤٰﻦِ ﺍﻟﺮَّﺣِﯿْﻢِ ﺍﻟﺴَّـــــــﻼَﻡُ ﻋَﻠَﻴــْــﻜُﻢ ﻭَﺭَﺣْﻤَﺔُ ﺍﻟﻠﻪِ ﻭَﺑَﺮَﻛـَـﺎﺗُﻪ صَـبَـــــــــــ...