مؤذّن
المبارکپوری کے مطابق پیغمبر اسلام نے اپنے صحابی حضرت بلال بن رباح کو مسجدِ نبوی کا پہلا مؤذّن مقرر کیا تھا۔
روایت کے مطابق جب صحابی رسول عبداللہ بن زید نے پیغمبرِ اسلام کو اذان کے بارے میں اپنے خواب سے آگاہ کیا تو انھوں نے ان سے کہا وہ بلال کی تربیت کریں کیونکہ ان کی آواز بلند ہے اور وہ لوگوں کو نماز کے لیے بلاوا دیں گے۔
سعودی اخبار الریاض کے مطابق چیف مؤذّن شیخ عبدالرحمان خشوقجی کا کہنا ہے کہ آج کل مسجدِ نبوی میں مؤذّنوں کی تعداد 17 ہے جو روزانہ پانچ وقت اذان دیتے ہیں۔
ہر روز ان میں سے تین مؤذّن پانچ وقت مکبریہ سے اذان دیتے ہیں اور نماز کے دوران امام کی آواز نمازیوں تک واضح طور پر پہنچانے کے لیے دہراتے ہیں۔
ابتدا
المبارکپوری کے مطابق پیغمبر اسلام نے مدینہ پہنچنے پر یہ زمین دس دینار میں دو یتیموں ساحل اور سہیل سے خریدی تھی۔ اس سے قبل یہ زمین کھجوریں سکھانے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
پیغمبرِ اسلام نے خود اس مسجد کی تعمیر میں شرکت کی تھی۔ تعمیر کے لیے پتھر کی بنیادوں کا استعمال کیا گیا اور مٹی کی دیواریں بنائی گئیں۔ کھجور کے درختوں کے تنے اور شاخیں چھت کے لیے استعمال کی گئیں۔
اس وقت مسجد کے تین دروازے تھے اور اس کا رخ مسجدِ الاقصیٰ کی جانب تھا جو کہ اس وقت کا قبلہ تھا۔ اس میں غریبوں اور مسافروں کو پناہ دینے کے لیے ایک سایہ دار حصہ بھی بنایا گیا تھا۔
بعد میں قبلے کا رخ تبدیل کر کے کعبے کی جانب کر دیا گیا تھا اور ایک دروازے کو بند کر کے دوسری سمت میں ایک اور دروازہ بنا دیا گیا تھا۔ .
جب صحابہ نے پیغمبرِ اسلام کو تجویز دی کہ چھت کو گارے سے پختہ کر دیا جائے، تو انھوں نے انکار کرتے ہوئے کہا: ’نہیں، یہ چھت عریشِ موسیٰ کی طرح رہے گی، موسیٰ کی چھپر نما چھت کی طرح۔‘ اس کے تین سال بعد تک فرش کو کسی چیز سے ڈھکا نہیں گیا تھا۔
مسجد کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مسجد کا ابتدائی رقبہ 1050 مربع میٹر تھا اور ہجرت کے سات سال بعد پیغمبرِ اسلام کی ہدایت پر اسے بڑھا کر 1425 مربع میٹر کر دیا گیا تھا۔

No comments:
Post a Comment